پیر، 15 فروری، 2021

کالکا دیوی | از ایم اے راحت



یہ درویشوں اور صاحب کرامت لوگوں کی صحبت تھی، چنانچہ عمادالدین کو اس صحبت سے بہت کچھ حاصل ہو گیا،،، امکان تھا کہ طلب حق میں حد سے گزر جاتے، لیکن ساتھ اچھا تھا، انہیں سمجھایا گیا۔


"عمادالدین! دین کے ساتھ دنیا بھی رکھو"،

"لیکن دنیا میں میرا دل نہیں لگتا"۔


"دل لگاؤ".


"کیسے لگاؤں؟"


پھر دل کے ساتھ دل لگی کا بندوبست بھی کر دیا گیا...... بزرگوں، درویشوں کے عمل ہی نرالے ہوتے ہیں، حکم ہوا کہ بندروان چلے جاؤ۔


"وہاں کیا کرنا ہوگا مرشد؟"


"مشرکوں کی بستی میں ایمان کی تلاش"


"کچھ اور تمہیں عطا ہو جائے"۔


"جن کا کام وہی جانیں"۔


عمادالدین بندروان چل پڑے...... پتہ بتا دیا گیا تھا..... آذان کے بجائے مندروں کی ونیا، پیتل کے گھنٹوں اور ناقوسوں کی آوازیں آتی تھیں..... پریشان ہو گئے، لیکن مجبوری تھی، مندروں کی آبادی میں ہی ایک کھلی جگہ قیام کیا..... موسم ناسازگار ہو گیا تھا..... نزلہ ہوا، پھر بخار ہو گیا....... آخر میں نمونیا، بے ہوش ہو گئے...... ہوش آیا تو کچھ اجنبیوں کے درمیان تھے..... تلک اور قشقے چہروں پر لگے ہوئے تھے، مگر دل صاف تھے۔


"نام بھی پتہ ہے تمہارا اور دھرم بھی.... بتانا مت..... لو! دوا کھالو"، یہ الفاظ کہنے والے دھرمانند جی تھے۔


"دوا؟" عمادالدین حیرت سے بولے۔


"گائے کا پیشاب نہیں ہے اس میں،،،،،، ہم بھی کھرے برہمن ہیں،،،،،، زلیخا، اری او زلیخا! اپنے برتن سے پانی لے آ"


کوئی بات سمجھ نہیں آئی تھی عمادالدین کو،

دوا بھی کھائی، پانی بھی پیا، زلیخا کو بھی دیکھا، اور جو دیکھا تو اسے دیکھ کر ششدر رہ گئے،،،،،،، بعد میں تفصیل معلوم ہوئی،،،،، نمونیا ہوا تھا،،،، تڑپ رہے تھے کہ دھرمانند جی نے دیکھ لیا،،،،، اپنے خاندان کے ساتھ یاترا پر آئے ہوئے تھے،،،،، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تیمارداری کی، ڈاکٹر کو دکھایا،،،،، اپنی نگرانی میں رکھا اور عمادالدین کے سامان میں سے ان کے بارے میں معلومات ہوئی، لیکن فراخدل تھے، دین دھرم سے زیادہ انسانی ہمدردی اور محبت کے قائل،،،،،، چنانچہ عمادالدین کو ٹھیک کرلیا،


"اب اجازت چاہتا ہوں" عمادالدین نے کہا۔


"اس قابل ہو؟" دھرمانند بولے۔


"جی ہاں".


"جانتے ہو ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟"۔


 "نہیں جانتا"۔


 "پوچھ ہی لیتے، اس کے بعد بات کرتے،،،،، ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے،،،،،، کم از کم پندرہ دن بیڈ ریسٹ پر رہنا ہے،،،،،، ویسے ہمیں پتہ ہے کہ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے ہو کہ ہندو کا دیا کھا رہے ہو،،،،، ارے بھائی، ہم تو پہلے ہی اس بات کا خیال رکھے ہوئے ہیں،،،،،،، زلیخا ہے ہمارے پاس،،،، تمہارے لیے وہی سب کچھ کر رہی ہے، دودھ تک اس کے ہاتھ سے دلوایا ہے تمہیں اور ابھی کچھ دن رہ جاؤ گے تو مشکل نہیں آ جائے گی،،،،،، وہ بھی اللہ والی ہے، نماز روزے کی پابند،،،،، پوچھ لینا اس سے جو کبھی روکا ہو اسے"۔


 "نہیں،،،،، دھرمانند جی! آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں،،،،، آپ کی محبت اور احسان کو تو میں کبھی نہیں بھول سکوں گا"۔


 "تو بھاگنے کی کیوں سوجھی ہے؟ پتہ ہے بڑی پریشانی ہو گئی ہے، ذرا سی گڑبڑ ہو گئی تو بیماری پھر گھیر لے گی"۔


 "بس،،،،، میں تو"۔


 "نہیں،،،،، کچھ نہیں،،،،،، جو کچھ ہے وہ دیکھ لیا جائے گا اسکی پرواہ مت کرو"۔


 عمادالدین صاحب خاموش ہوگئے اور اسکے بعد انہوں نے دھرمانند جی کے ساتھ گزارا شروع کر دیا،،،،،، کھانے پینے کے لیے واقعی بیچاری زلیخا ہی زمہ داریاں نبھا رہی تھی،،،،، دبلی پتلی جسامت کی مالک،،،،،، کوئی بیس اکیس سال کی عمر،،،،، الجھے بال لیکن اتنے گھنے کہ پورا چہرہ گھٹاؤں میں گھرا محسوس ہو،،،،، بڑی بڑی حسین آنکھیں،،،،، دکھ اور کرب میں ڈوبی ہوئیں،،،،، ہونٹوں پر قدرتی گلاب کھلے ہوئے،،،،، اتنے جاذب نقوش کہ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو جائیں، لیکن مجسم حسرت و یاس، جہان کا سارا کرب خود میں سمیٹے ہوئے، بہت ہی سادہ اور عام سے کپڑوں میں ملبوس،،،،، دھرمانند جب اسے مخاطب کرتے تو ان کے لہجے میں بڑی محبت ہوتی تھی،،،،، کہنے لگے۔


 "زلیخا بیٹی! مہمان کا خاص طور سے خیال رکھنا،،،، کوئی تکلیف نہ ہونے پائے انہیں،،،،، بس یوں سمجھ لو کہ تمہاری زمہ داری ہے"۔


 "جی چاچا جی"،،،، زلیخا کی آواز کا ترنم ابھرا،،،،،


بہرحال، پھر عمادالدین ان لوگوں کے عادی ہو گئے،،،، ایک دن،،،، دو دن،،،،، تین دن،،،،، ان کے اہل خاندان بھی تھے، ان کی بیوی کا نام پوجا دیوی تھا،،،،، پوجا دیوی بھی دھرمانند جی کی مانند ہی ملنسار، اتنی ہی ہمدرد اور محبت کرنیوالی،،،،، عمادالدین کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے؟،،،،،

پھر ایک دن جب دھرمانند اور ان کی بیوی پوجا کے لیے گئے ہوئے تھے، عمادالدین اپنی جگہ سے اٹھے، خیمے سے نکل کر دوسرے خیمے کی طرف چل پڑے تو انہوں نے وہاں ایک عجیب منظر دیکھا،،،،، بتوں کے سائے میں عبادت ہو رہی تھی،،،،، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،،،،، سفید دھاریں امڈی آ رہی تھیں،،،،، رخسار جل رہے تھے،،،،، ایسا کرب سمٹا ہوا تھا اس کے چہرے پر، کہ دیکھنے والے کا کلیجہ دہل جائے،،،،، عمادالدین پتھرا کر رہ گئے،،،،، دل جیسے بند ہو گیا،،،،، بدن میں سکتہ طاری ہو گیا،،،،، آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی،،،،، حالانکہ اندر سے آواز آ رہی تھی کہ اس حسن بےمثال کا کرب خود میں سمیٹ لیں،،،،، اسے ہر دکھ سے آزاد کر دیں، لیکن ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا اور اسی عالم میں کھڑے ہوئے تھے کہ دھرمانند اور انکی بیوی آ گئے،،،،، انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ عمادالدین اس طرح کھڑے ہوئے ہیں،،،،، عمادالدین کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ خیمے میں لے گئے۔


 "اس کا درد ہم میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم،،،،، وہ لاوارث ہے، کوئی خبر گیری کرنیوالا نہیں ہے،،،،، بےچین ہے،،،،، بےسکون ہے،،،،، نہ ہنستی ہے نہ مسکراتی ہے،،،، حالانکہ ہم نے اسے بیٹیوں کی طرح ہی رکھا ہے لیکن پتہ نہیں کیا دکھ ہے اسکے سینے میں،،،، بہت پوچھا مگر بتاتی نہیں،،،،، اسے ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہنسنے کے بجائے رو پڑتی ہے،،،،، کوئی بہت ہی گہرا غم ہے دل میں،،،،، کسی نہ کسی نے اس کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے،،،،، راتوں کو جاگتی رہتی ہے،،،،، کبھی کہیں بیٹھے بیٹھے تاریکیوں کو گھورتی رہتی یے،،،،، کبھی رات رات بھر نماز پڑھتی رہتی ہے،،،،، گھنٹوں سجدے میں پڑی رہتی ہے"،،،،، دھرمانند جی بتا رہے تھے اور عمادالدین کے رگ و پے میں سرد لہریں دوڑ رہی تھیں،،،،، وہ زلیخا کے بارے میں سوچ رہے تھے،،،،، بہرحال دھرمانند جی نے یہ تفصیلات بتائیں، لیکن وہ اور کچھ نہ کہہ سکے، نہ کر سکے،،،،، پھر اسی رات عمادالدین دوبارہ باہر نکلے تو ایک بار پھر نظر بائیں سمت چلی گئیں،،،،، خیمے کے اس طرف گھاس کا ایک قطعہ تھا،،،،، صاف ستھرا تو نہ تھا،،،،، پوجا پاٹ کیلیے آنیوالوں کے لیے اسے صاف ستھرا کر دیا گیا تھا اور وہاں زلیخا بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی، حالانکہ رات کافی زیادہ گزر چکی تھی،،،،، دیار دہر میں یہ عمادالدین جیسے دیندار شخص کو بہت عجیب سی لگی،،،،، وہ زلیخا کو دیکھتے رہے کہ یہ کون ہے،،،،، کس کے ظلم کا شکار ہو گئی ہے؟،،،،، قدم خودبخود آگے بڑھ گئے اور اس سے کچھ فاصلے پر پہنچ کر اسے دیکھنے لگے،،،،، وہ دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی،،،،، عمادالدین کے آنے کا اسے پتہ ہی نہیں تھا، لیکن کچھ لمحوں بعد عمادالدین نے اسکی سسکیاں سنیں،،،،، وہ بری طرح سسک رہی تھی،،،،، عمادالدین کا دل پگھلنے لگا،،،،، اسکا درد انہیں اپنے سینے میں محسوس ہونے لگا،،،،، دل بری طرح اسکی طرف کھنچ رہا تھا،،،،، وہ ہاتھ اٹھائے سسکتی رہی اور عمادالدین بےاختیار ہو کر اس کے قریب پہنچ گئے،،،،، اسے جب عمادالدین کی موجودگی کا احساس ہوا تو سہم کر اٹھ کھڑی ہوئی،،،،، اسکے انداز میں وحشت تھی۔


 "کچھ نہیں زلیخا،،،،، ڈرو مت،،،،، میں ہوں،،،،، عمادالدین!"،،،،، زلیخا نے جب گھبرائی ہوئی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو عمادالدین نے کہا۔


 "میں تمہارے لیے بہت افسردہ ہوں،،،،، زلیخا،،،،، کاش میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا،،،،، میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہیں کیا دکھ ہے؟،،،،، میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارے تمام دکھ دور کردوں،،،،،کاش تم مجھے اپنے بارے میں بتادو"۔


یوں لگا جیسے زلیخا کو کسی ہمدرد کی موجودگی کا احساس ہوا ہو،،،،، اسکے رخساروں پر آنسوؤں کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔


 "مجھے بتاؤ،،،،، میں کیا کروں تمہارے لیے؟،،،،، عمادالدین نے کہا،،،،،


وہ عمادالدین کو دیکھ رہی تھی،،،،، اسکی آنکھوں میں عجیب سی کیفیت تھی،،،،، پھر اسکا سر آہستہ سے جھکا،،،،، ایک قدم آگے بڑھی اور اپنی پیشانی عمادالدین کے سینے سے ٹکا دی،،،،، یہ منظر دھرمانند جی نے دیکھ لیا، لیکن ،،،،، دیکھ کر کچھ نہ کہا،،،،، بات دل میں رکھی،،،،،


زلیخا کی کہانی عمادالدین کو یوں معلوم ہوئی۔

 

 ماں باپ تھے، ایک بھائی تھا، سکون کی زندگی گزر رہی تھی،،،،، جوان بھائی برے راستوں پر نکل گیا تھا،،،،، وہ دولت کمانے کے چکر میں دنیاوی اقدار بھول گیا تھا،،،،، کچھ لوگوں سے دشمنی ہوئی،،،،، ایک رات کو گھر میں داخل ہوا تو سینے میں گولی کا سوراخ تھا،،،،، خاموشی سے گھر میں دم توڑ دیا،،،،، ماں نے جوان بیٹے کو اس حال میں دیکھا تو ایک لمحہ جی نہ سکی اور بیٹے کے ساتھ ماں کی میت کو بھی ایک ہی جگہ، ایک ہی قبرستان میں دفنانا پڑا،،،،، اسکے بعد باپ بیٹی رہ گئے ، لیکن ایسے ہی زخم جان لیوا ہوتے ہیں،،،،، زلیخا کی زندگی تھی بچ گئی، لیکن تھوڑے عرصے بعد اسکا باپ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا،،،،، ظلم کرنیوالوں نے تنہا لڑکی پر مظالم کرنے کے فیصلے کیے،،،،، باقی تو سب وہ برداشت کرتی رہی، لیکن جب محلے کے اوباش انسان نے اسکی طرف قدم بڑھائے تو زلیخا گھر چھوڑ بھاگی،،،،، نجانے کہاں کہاں ماری ماری پھرتی رہی،،،،، یہاں تک کہ دھرمانند کے ہاتھ لگ گئی،،،،، خاموش طبع اور سر جھکا کر کام کرنیوالی۔


 دھرمانند نے اسے بیٹیوں جیسا درجہ دے دیا تھا اور کبھی اسکے مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی تھی،،،،،


بڑائی کیلیے کسی خاص جسم کو تراشنا نہیں پڑتا،،،،، بڑائی کہیں بھی پل سکتی ہے۔


اور دھرمانند جی ایک مسلمان لڑکی کو بیٹی کی طرح پروان چڑھاتے رہے،،،،، یہاں تک کہ آج انہوں نے اس لڑکی کا سر اسی کے ایک ہم مذہب نوجوان کے سینے پر ٹکا ہوا دیکھ لیا،،،،، عمادالدین سے بات کی اور کہا کہ اپنے مذہب کے مطابق زلیخا کو اپنی زوجیت میں قبول کر لیں،،،،، قدرت نے شاید اسی لیے بھیجا تھا،،،،، سارے انتظامات ہو گئے،،،،، نکاح کیا اور دھرمانند جی نے کنیا دان بھی کیا،،،،، آخرکار،،،،، زلیخا عمادالدین کی بیوی بن گئی،،،،، عمادالدین اسے لیکر مرشد کے حضور پہنچے تو مرشد نے مسکرا کر کہا۔


 "عمادالدین! کہا تھا نہ تم سے، دین بھی نبھاؤ اور دنیا بھی،،،،، اللہ تعالیٰ اسکا اجر دیتا ہے"۔


بیوی کو لیکر گھر پہنچے،،،،، لیکن اہل خاندان نے قبول نہیں کیا۔


خود کو اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی و مرتبہ دے دیا تھا کہ اپنا گزارہ کر سکتے تھے، چنانچہ ایک مدرسے میں دین کی تعلیم دینے لگے جو انکی اپنی آبادی میں ہی تھا،،،،،، مدرسے والوں نے انکے فیض سے واقف ہوکر انکو عظمت کا مقام دیا،،،،، اور عمادالدین مدرسے کی طرف سے دیے گئے مکان میں رہنے لگے،،،،، زلیخا انکے ساتھ خوش تھی اور ایک پرسکوں زندگی گزار رہی تھی،،،،، اس پرسکون زندگی میں ایک ننھی سی بچی کی آمد نے مزید حسن پیدا کر دیا تھا اور دونوں میاں بیوی پرمسرت زندگی بسر کر رہے تھے،،،،، باقی لوگوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا اور عمادالدین کی صورت دیکھنے کے روادار نہ تھے،،،،، عمادالدین نے بھی صبر کر لیا تھا،،،،، دن رات کی عبادت و ریاضت سے انکے علوم میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا،،،،، لوگوں کی مدد بھی کیا کرتے تھے،،،،، تعویز، کلام الٰہی سے علاج، جو کچھ انکے بس میں تھا کرتے رہا کرتے تھے،،،،، علم کو اگر خرچ کیا جائے تو بڑھتا ہے،،،،، یہ واحد چیز ہے جسکا مصرف ہی کچھ اور ہوتا تھا،،،،، عمادالدین اپنی حیثیت میں خاصے مشہور ہو چکے تھے،،،،، پھر زندگی کے رخ میں ایک انوکھی تبدیلی رونما ہوئی،،،،، انکا بچپن کا دوست، ارجن شاستری، جو بچپن سے ہی شریر اور نٹ کھٹ تھا اور سولہ سترہ سال کی عمر میں اس کے ماں باپ نے اسے گھر سے نکال دیا تھا،،،،، پھر طویل عرصے تک وہ واپس نہیں آیا تھا،،،،، یہاں تک کہ واپس آیا تو شیطان کا دوسرا روپ بن چکا تھا،،،،، نجانے کہاں اور کن لوگوں کی صحبت میں رہا تھا،،،،، گندے علوم سیکھے تھے اور آبادی کے ایک گوشے میں اپنی رہائش گاہ بنا لی تھی،،،،، بہت جلد اسکے گندے علوم کا کاروبار مشہور ہونے لگا،،،،، عمادالدین کو بھی اسکے بارے میں معلوم ہوا، تو اس سے ملنے گئے،،،،، جب ارجن شاستری نے انہیں دیکھا تو آگے بڑھ کر انکے اور اپنے درمیان ایک لکیر کھینچ دی۔


 "ہم بچپن کے دوست ضرور ہیں،،،،، عمادالدین صاحب،،،،، لیکن اس لکیر کے اس طرف نہ آئیں،،،،، یہ ہم دونوں کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے راستے الگ ہو چکے ہیں، تم اپنے علوم کی طرف راغب رہو، اور میں نے دنیا کے بہترین علوم سیکھے ہیں،،،،، میرا راستہ مت کاٹنا،،،،، نقصان اٹھاؤ گے"۔


 "مگر تمہیں ہوا کیا؟ ارجن شاستری،،،،،، شاستری جی کا خاندان تو بڑا ہی اچھا خاندان رہا ہے"۔


 "تمہیں معلوم ہے کہ بڑے شاستری نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا"۔


 "معلوم یے،،،،، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"۔


 "میرا دین دھرم تو اسکے ساتھ ہی ختم ہو گیا،،،،، اب تو میں نے ایک نیا دھرم ہی اپنا لیا یے،،،،، اسے کالا دھرم کہتے ہیں اور تم دیکھنا، آنیوالے وقت میں ارجن شاستری کو کتنا بڑا مقام حاصل ہوتا ہے"۔


 "برائی اور غلاظت تو کوئی مقام نہیں ہوتا،،،،، شیطان کی قوت بھی تو بہت زیادہ ہے، لیکن تم بتاؤ! شیطان کو کوئی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے بھلا؟"۔


 "ارے بھائی،،،،، مجھے سبق پڑھانے آئے ہو،،،،، میں تو خود تمہیں سبق پڑھا دوں ایک منٹ میں،،،،، بات یہ ہے کہ بچپن کی دوستی ہے عمادالدین صاحب،،،،، اسی لیے ایک مشورہ دیتا ہوں،،،،، کبھی میرا راستہ کاٹنے کی کوشش مت کرنا"۔


 "بہت برے ہو گئے ہو تم ارجن شاستری"۔


 "ہاں!،،،،، اور تم بہت زیادہ اچھے ہو گئے ہو،،،،، اس لیے آگ اور پانی کو ساتھ ساتھ نہیں رہنا چاہیے،،،،، آئندہ دوبارہ کبھی ادھر مت آنا،،،،، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میرا راستہ روکو اور مجھے بعد میں افسوس ہو کہ میں نے ایک دوست کو نقصان پہنچا دیا"۔


 عمادالدین صاحب واپس آ گئے تھے، لیکن دل میں تھوڑا دکھ ضرور ہوا تھا،،،،، اپنے کاموں میں مصروف رہے۔ پھر انہوں نے بےشمار لوگوں سے ارجن شاستری کی برائیاں سنیں،،،،، وہ پیسے لیتا تھا اور لوگوں کے لیے کالا علم کرتا تھا،،،،، بےشمار لوگوں کو اسکے ہاتھوں نقصان پہنچ چکا تھا، لیکن لوگ اس سے ڈرنے لگے تھے،،،،، اسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا،،،،، کئی افراد ایسے بھی تھے جو عمادالدین کے پاس آئے اور عمادالدین نے انہیں دوا دی، تعویز اور پڑھا ہوا پانی دیکر ارجن شاستری کے چنگل سے نکالا۔


ارجن شاستری نے جہاں اپنی دنیا آباد کر رکھی تھی، وہیں اس نے اپنا گھر بھی بنا رکھا تھا،،،،، کوئی عورت بھی اس کے ساتھ تھی اور اتفاق کی بات ہے کہ اسکی ایک بیٹی بھی تھی جو اس عمر کی تھی جس عمر کی عمادالدین صاحب کی بیٹی،،،،، مہرالنساء،،،،، بہرحال، یہ سارے کام ہوتے رہے اور پھر وہی ہوا جسکا خطرہ تھا،،،،، دوبارہ ارجن شاستری سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا تھا،،،،، ادھر عمادالدین کے والد صاحب کے دوست، ٹھاکر جسونت رائے، عمادالدین سے ملتے رہتے تھے،،،،، عمادالدین کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔ جسونت رائے اور انکا خاندان یہیں آباد تھا، جبکہ عمادالدین کا خاندان کہیں اور منتقل ہو چکا تھا۔


ایک دن ٹھاکر جسونت رائے اپنے خاندان کے کچھ لوگوں کے ساتھ عمادالدین کے پاس پہنچے،،،،، انکے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی سخت پریشان نظر آ رہے تھے،،،،، جسونت رائے نے عمادالدین سے کہا۔


 "عمادالدین بیٹا! نہ تو میرا تعلق تمہارے دھرم سے ہے، اور نہ ہی کسی ہندو نے تم سے مدد طلب کی ہوگی،،،،، میں پہلا آدمی ہوں جو تمہارے پاس آیا ہوں،،،،، یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ تمہارے پتا کا بچپن کا دوست ہوں،،،،، میرا حق بھی ہے تم پر، حالانکہ مین نے کبھی کچھ نہیں کیا ہے تمہارے لیے،،،،، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تمہیں کسی کی ضرورت تھی ہی نہیں بیٹا!،،،،، میں مشکل کا شکار ہو گیا ہوں،،،،، یہ میرے گھر کے لوگ ہیں،،،،، ان سب کو تماری مدد کی ضرورت ہے"۔


 "جسونت چاچا،،،،، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں،،،،، آپ حکم دیجیے،،،،، کیا کام ہے مجھ سے؟"۔


 "بیٹا! دنیا میں تین چیزوں کا کھیل روز اول سے جاری ہے اور آخر تک رہے گا،

زر، زن اور زمین!

ان کے لیے اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں،،،،، دوست آنکھیں پھیر لیتے ہیں،،،،، حالانکہ وہ کمینہ ہیرالال بےدر، بے گھر پھر رہا تھا، میں نے اسے مکھیا بنایا، زمینیں بھی دیں،،،،، پر اب وہ اور ہی چکروں میں پڑ گیا ہے،،،،، مجھ سے ایک ایسی زمین مانگ رہا تھا، جو اب میری ہے بھی نہیں، اور ہوتی بھی تو زمینیں بانٹی تو نہیں جاتیں،،،،، مکھیا ہیرالال کافی عرصے سے مجھے دھمکیاں بھی دے رہا ہے،،،،، خیر،،،،، دھمکیوں کی تو میں کبھی پرواہ نہیں کرتا، لیکن اب اس نے جو کچھ کیا ہے وہ بڑا غلط ہے"۔


 "کیا ہوا ہے چاچاجی،،،،، کچھ بتائیے تو سہی؟"۔


 "اس نے پاپی کالے دھرم والے ارجن شاستری کا سہارا پکڑ لیا ہے اور اسکے آدمی نے مجھے آکر اطلاع دی ہے کہ آنیوالی دیوالی، جس میں صرف دس دن رہ گئے ہیں، وہ میری طرف ہانڈی بھیج رہا ہے،،،،، تم مٹھوں کے بارے میں تو جانتے ہی ہو،،،،، دیوالی کی رات کو جادو کے یہ مٹھ جلتے ہیں اور کالے دھرم والے انہیں اپنے دشمنوں پر مارتے ہیں۔ جو کالا دھرم نہیں جانتے، وہ کالے دھرم والوں سے یہ کام کرواتے ہیں اور یہ مٹھ جہاں بھی گرتا ہے وہاں تباہی پھیلتی ہے،،،،، کوئی نہ کوئی مر جاتا ہے،،،،، یہ ہے سارا سلسلہ"۔


 "آپکو یقین ہے کہ مکھیا ہیرالال ایسا کام کرا رہا ہے؟"۔


 "کرا چکا ہے،،،،، اب بس انہیں دیوالی کا انتظار ہے" جسونت رائے نے کہا۔


 "آپ بالکل بےفکر رہیں،،،،، انشاء اللہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا"،،،،، عمادالدین نے جسونت رائے کو یقین دلایا۔


جسونت رائے چلے گئے اور عمادالدین پریشانی سے یہ سوچتے رہے کہ اب انہیں کیا کرنا ہے،،،،، آخرکار اپنے بچپن کے دوست سے ملنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ ارجن شاستری ان سے کہہ چکا تھا کہ وہ دوبارہ اس طرف نہ آئیں، لیکن عمادالدین اسکے سامنے پہنچ گئے،،،،، ارجن شاستری اسی جگہ آیا جہاں اس نے پہلے بھی ایک بار لکیر کھینچی تھی،،،،، عمادالدین نے مسکرا کر کہا۔


 "ارجن! تم دیکھ لو میں آج بھی اسی جگہ کھڑا ہوں، جو تم نے میرے لیے منتخب کر دی تھی،،،،، میں نے اس لکیر کو عبور کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، جبکہ اس وقت وہ لکیر موجود نہیں ہے"۔


 "دیکھو عمادالدین! تم میرے بچپن کے دوست ہو،،،،، میں بےشک تمہیں اپنے پاس خوش آمدید کہتا ہوں، لیکن، جو کچھ میں نے سیکھا ہے، اس میں سے تمہاری مدد کے لیے بھی خرچ کرتا،،،، یہ میری دوستی ہوتی،،،،، لیکن تم جانتے ہو کہ ایک طرف کالا دھرم ہے اور دوسری طرف تمہارے دین کے علوم، دونوں اس طرح آپس میں ٹکراتے ہیں کہ شاید آگ اور پانی میں بھی اتنا بیر نہ ہو،،،،، ایسی صورت میں میرے دوست، ہماری دوستی کا تصور تو رہا بھی نہیں ہے،،،،، میں نے اس دن بھی تمہیں سمجھایا تھا کہ دوبارہ کبھی میرے پاس مت آنا،،،،، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ایسے کچھ لوگوں کا ساتھ دیا ہے تم نے جنہیں میں نے کسی وجہ سے نقصان پہنچایا ہے،،،،، تم نے انہیں اس نقصان سے بچا لیا عمادالدین،،،،، میری دوستی کا اس کے علاوہ اور کچھ عمل نہیں ہو سکتا کہ تمہاری ان کوششوں کے باوجود میں نے تم سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ چھوٹے موٹے تعویز گنڈے میرے اس عمل کا بدلہ نہیں دے سکتے جو میں کرتا ہوں یا کر سکتا ہوں،،،،، میں سوچا، چلو تمہارا دھندا بھی چلتا رہے،،،،، دو چار پیسے مل ہی جاتے ہوں گے ان تعویز گنڈوں سے، جبکہ میں تو بہت کچھ کما رہا ہوں،،،،، یہ میری بڑائی ہے عمادالدین،،،،، چلو خیر ہے،،،،، کہنا کیا چاہتے ہو تم؟ دوبارہ کیوں آئے ہو میرے پاس؟ بولو"۔


 "مکھیا ہیرالال نے تم سے جسونت رائے کیلیے کوئی کارروائی کروائی ہے،،،،، جسونت رائے میرے پاس آئے تھے،،،،، وہ میرے والد صاحب کے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور انہوں نے مجھ سے مدد مانگی ہے"۔


 "اوہو،،،،، مدد مانگی ہے تم سے،،،،، اچھا،،،،، بھئی ایسا لگتا ہے جیسے تمہاری تقدیر بھی زوروں پر ہو،،،،، چلو ٹھیک ہے، کھاؤ، کماؤ، مگر ایک بات سنو،،،،، جسونت رائے کے سلسلے میں کیا کہنا چاہتے ہو؟"۔


 "تم انکے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا"۔


 "کارروائی تو ضرور ہوگی, کیونکہ ہیرالال نے مجھے دو لاکھ روپے دئیے ہیں،،،،، تم جسونت رائے سے پوچھو، وہ مجھے کیا دیں گے؟ دس لاکھ پر بات ہو سکتی ہے،،،،، یا پھر ایسا کریں کہ زمین ہیرالال کو دےدیں، میں دو لاکھ پر ہی گزارہ کرلوں گا"۔


 "اگر دونوں میں سے کوئی کام نہ ہو تو؟" عمادالدین نے کہا۔


 "تو پھر ایسا کرنا کہ دیوالی کی رات جسونت رائے کے گھر جاکر بیٹھ جانا اور خود ہی تماشہ دیکھ لینا جو کچھ ہوتا ہے"۔


 "یہی میں نہیں چاہتا ارجن شاستری"۔


 "ارے تو تم کیا چاہتے ہو؟"۔


 "یہی کہ تم اپنا ارادہ ترک کر دو"۔


 "تم دس لاکھ بھجوا دو،،،،، چلو کچھ کمی بیشی کر لیتے ہیں اس میں"۔


 "ایک پیسہ بھی نہیں،،،،، میں تمہیں دوستی کے نام پر روکنے آیا ہوں کہ جسونت رائے کے خلاف ہیرالال کی مدد مت کرو"۔


 "بھائی،،،،، دوستی کی اتنی قیمت نہیں ہوتی،،،،، دوستی کے نام پر تو تم مجھے دو لاکھ بھی نہیں دے سکتے،،،،، دے سکتے ہو؟"۔


 "ایک پیسہ بھی نہیں دے سکتا"۔


 "تو پھر دیکھ لو،،،،، تم جو کچھ کما رہے ہو،،،،، کماؤ،،،،، ہم جو کما رہے ہیں، وہ ہمیں کمانے دو،،،،، بس پھر یہی کہیں گے کہ تیسری بار اس طرف مت آنا عمادالدین،،،،، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہاتھوں تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے،،،،، بڑا افسوس ہوگا ہمیں،،،،، اب دوستی تو نبھائیں گے،،،،، کیا سمجھے؟"۔


 "ایک بار پھر میں تم سے درخواست کر رہا ہوں،،،،، مان لو میری بات،،،،، ارجن شاستری"، جواب میں ارجن شاستری ہنس پڑا، پھر بولا۔


 "ہزار دو ہزار روپے چاہیے تو مانگ کر لے جاؤ مجھ سے،،،،، چلو واپس مت کرنا،،،،، دوستی کی اتنی بڑی قیمت نہیں دے سکتا،،،،، تمہارا کیا سودا ہوا ہے جسونت رائے سے؟"۔


 "ٹھیک ہے"،،،،، عمادالدین نے کہا اور گردن جھکا کر واپس پلٹ پڑے۔


لیکن ان کے چہرے پر غصے کے آثار تھے۔

سمجھایا تھا ارجن شاستری کو۔

نہیں مان رہا تھا تو اب مجبوری تھی۔


دیوالی آ گئی،،،،، ہندو دھرم کے لوگوں نے اتنے چراغ جلائے کہ پوری بستی روشن کردی، ہر ہندو گھرانے میں چراغ جل رہے تھے،،،،، سڑکوں پر چہل پہل تھی،،،،، عمارتیں سجی ہوئی تھیں، لیکن ٹھاکر جسونت رائے کی حویلی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی،،،،، جسونت رائے کی حویلی کی روشنی پوری بستی میں مشہور تھی،،،،، لوگ اس روشنی کو دیکھنے آیا کرتے تھے، لیکن اس بار وہاں روشنی نہیں تھی،،،،، سبھی کو صورتحال کا پتہ نہیں تھا،،،،، کچھ کو حیرت تھی،،،،، کچھ پریشان تھے،لیکن حویلی کا بڑا گیٹ بند تھا،،،،، پہرے داروں کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ باہر سے کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے،،،،، عمادالدین حویلی میں پہنچ چکے تھے اور حویلی کے گیٹ کے سامنے بنے ہوئے ایک ایسے درے میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں سے دور دور تک آسمان دیکھا جا سکتا تھا،،،،، حویلی کے مختلف گوشوں میں جسونت رائے کا خاندان آنیوالی قیامت کا منتظر تھا،،،،، ہندو دھرم میں تو ان جادو کی ہانڈیوں کا بڑا دخل ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کیلیے دیوالی کی رات کو پھینکی جاتی ہیں،،،،، ہزاروں المیے جنم لیتے ہیں اور قانون اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا،،،،، آج بھی کالے جادو کے ماہر یہ سارے کام کرتے ہیں،،،،، یہ گندی اور نیچ نسل کے لوگ ہوتے ہیں جنکا اپنا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا،،،، انہیں تو ہندو بھی نہیں کہا جا سکتا،،،،، انکا دھرم صرف دولت ہوتی ہے اور دولت کے یہ پجاری اپنے گندے علم سے دوسروں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے،،،،، عمادالدین ایک وظیفہ پڑھ رہے تھے،،،،، مرشد نے بہت کچھ دے دیا تھا انہیں اور ان کی نیک چلنی اس میں اضافہ کئے جا رہی تھی،،،،، خود محنت مزدوری کرتے تھے، یہاں باپ کی دولت میں سے کچھ ہاتھ نہیں لگا تھا،،،،، بیوی اور بیٹی کی پرورش کے لیے اپنے ہاتھ سے کماتے تھے،،،،، تعویز وغیرہ کے نام پر انہوں نے کبھی کسی سے ایک پیسہ بھی قبول نہ کیا تھا،،،،، نذرانہ تک قبول نہیں کرتے تھے،،،،، کہتے تھے کہ یہ درپردہ معاوضہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نام کا معاوضہ قبول کرنا گناہ ہوتا ہے،،،،، جسے وہ قبول نہیں کر سکتے۔


بہرحال، اس وقت وہ بیٹھے ہوئے تھے ، جسونت رائے اور انکے اہل خاندان آسمان پر نگاہیں جمائے ہوئے تھے، رات کو بارہ بجے کے بعد فضا میں ایک روشن چیز اڑ کر حویلی کی طرف آتی ہوئی دکھی، وہ آہستہ آہستہ فضا میں تیرتی ہوئی حویلی پر آ رہی تھی،،،،، جسونت رائے کی دھرم پتنی، انکے بچے بہوئیں، سبھی بھگوان کو یاد کرنے لگے، دشمن آ گیا تھا، ادھر عمادالدین صاحب بھی اس روشن نقطے پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے، جو حویلی کے لیے موت کا پیغام لیکر آ رہا تھا، عمادالدین نے آنیوالی ہانڈی کی طرف نگاہیں جمائیں، وہ آہستہ سے نیچے جھکتی چلی آ رہی تھی، پھر جب وہ حویلی کے بڑے گیٹ کو عبور کر کے آگے بڑھی تو اچانک عمادالدین صاحب نے پھونک ماری اور اس کے بعد اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے، کلام الٰہی کی کچھ مخصوص آیات پڑھ کر ایک بار انہوں نے ہانڈی کی طرف تین بار پھونک ماری اور اچانک ہی جسونت رائے نے ہانڈی کا رخ بدلتے ہوئے دیکھا، وہ جس طرف سے آئی تھی، اسی طرف ہی واپس جا رہی تھی، عمادالدین صاحب نے ایک بار پھر پھونک ماری اور ہانڈی دور ہو گئی۔ اس عمل کو دیکھ کر جسونت رائے اور اس کے اہل خاندان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور اس کے بعد وہ شور مچاتے ہوئے عمادالدین صاحب کی طرف دوڑ پڑے، جسونت رائے کے بچوں نے عمادالدین کو گود میں اٹھا لیا تھا۔


"بھئی عمادالدین! آپ نے جو ہمارے لیے کیا، ہم اسے زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ اب تو خطرہ ٹل گیا ہے نا؟"۔


"ہاں! پر مجھے افسوس ہے کہ مجھے اس ہانڈی کو واپس ارجن شاستری کے پاس بھیجنا پڑا، حالانکہ میں یہ نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن مجبوری تھی، اور کوئی ذریعہ نہیں تھا"۔


جسونت رائے کے بڑے بیٹے نے ایک تھال، جس میں چاندی اور سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے، لاکر عمادالدین صاحب کو پیش کیا اور کہا۔

"بھائی عمادالدین! ہم آپکی اور تو کوئی خدمت نہیں کر سکتے، یہ ایک معمولی سی بھینٹ ہے"۔


عمادالدین نے نگاہیں اٹھا کر اس کو دیکھا اور کہا۔

"بھائی، میں نے تو آپ کو کوئی بری بات نہیں کہی، مجھے یقین نہیں تھا کہ آپ مجھے اس طرح ذلیل کریں گے، میں اس محبت بھرے کام کے لیے کوئی معاوضہ تو نہیں لینا چاہتا"۔


"یہ تو نذرانہ ہے بھائی عمادالدین"۔


"معاوضہ اور نذرانہ! ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، مجھے اجازت دیجئے"۔ عمادالدین نے کہا اور جسونت رائے اپنے بیٹے سے کہنے لگے۔

"بیٹا، تمہیں پتہ نہیں کہ یہ کونسا خاندان ہے؟ یہ جو ہم انہیں دے رہے ہیں نا، شاید اتنا انہوں نے اپنے ملازموں کو اپنے ہاتھوں سے دیا ہو، مت پڑو اس چکر میں، وہ کچھ نہیں لیں گے"۔


عمادالدین گھر آ گئے، زلیخا کے ساتھ مہرالنساء بیٹھی ہوئی تھی۔ بچی دیکھتے ہی دیکھتے تیری چودہ سال کی ہو گئی تھی، سمجھدار اور اس قدر حسین تھی کہ دیکھنے والی نگاہ ایک دفع دیکھے تو ہٹ نہ سکے، زلیخا کا عکس تھی۔


عمادالدین کا اترا ہو چہرہ دیکھ کے زلیخا نے کہا۔

"کیا بات ہے؟ کوئی پریشانی ہو گئی؟"۔


"نہیں زلیخا! کوئی خاص بات نہیں ہے، ایک ایسا عمل کیاہے جو پہلے کبھی نہیں کیا"۔


"کیسا عمل؟"۔


"بس زلیخا! اس نے بھی تو زیادتی کی تھی، سمجھایا تھا اسے ہم نے، نہیں مانا بیوقوف۔ کہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اصل میں گندہ علم ہے، کبھی کبھی عامل کو نقصان بھی پہنچا دیتا ہے"۔


"مجھے پوری بات تو بتائیں"۔


"ٹھاکر جسونت رائے آئے تھے ہمارے پاس، میرے والد کے دوستوں میں سے ہیں"


"ہاں ہاں، ایک بار انکی دھرم پتنی بھی آئی تھی نا ہمارے پاس، ہمیں مکان کا تحفہ دے رہے تھے وہ"


"وہی، وہی۔ انہی کی بات کر رہا ہوں"


"پھر آئے نہیں ہمارے پاس"


"بات ہے نا زلیخا"


"کیا؟"


"ظاہر ہے، ہمارے اور انکے مذہب میں زمین آسمان کا فرق ہے، بہت سے معاملات میں ہم انکی مداخلت پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی آمد"


"خیر چھوڑیں، انہیں کیا ہوگیا؟"


"نہیں، کچھ نہیں ہے، بس انکا ایک چھوٹا سا کام تھا۔ ہمارا ایک دوست تھا یہاں، ارجن شاستری"


"ہاں، آپ اس کے بارے میں بھی بتا چکے ہیں"


"ہم نے آج ارجن شاستری کا ایک جادو ناکام بنا دیا یے، اور یہ مجبوری تھی ہماری، اصل میں اسکا یہ جادو اگر حویلی پر گر پڑا ہوتا تو ٹھاکر جسونت رائے کے دو چار افراد مر جاتے۔ بس ہم نے اسے واپس کردیا، لیکن یہ خیال نہیں تھا ہمارے دل میں کہ وہ اسے کوئی نقصان پہنچا دے۔ بس یہ چونکہ صرف خدشہ ہے، ہم ان کالے جادو کی باتوں کو نہیں جانتے، کہیں وہ ارجن شاستری کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے"۔


عمادالدین کا خیال غلط نہیں تھا، واقعی وہ اس بارے میں نہیں جانتے تھے۔


ارجن شاستری نے اپنا گھر آبادی سے الگ تھلگ بنا رکھا تھا کیونکہ ایسے بہت سے کام ہوتے تھے جو بستی کی آبادی میں نہیں ہو سکتے تھے۔ دیوالی کی رات کو ہندو دھرم کے لوگ درگا پوجا اور ایسے ہی دوسرے کام کیا کرتے تھے۔ ارجن شاستری سال بھر کی کمائی کیا کرتا تھا، بہت سے معاملے ہوا کرتے تھے، بہت سے لوگ اپنے مخالفین پر جادو کروایا کرتے تھے۔ چنانچہ، آج کی بکنگ بہت زبردست تھی۔ ایک شریمتی، سرلا دیوی، تھی جو کسی دوسری آبادی میں رہتی تھی، انہیں اپنی سوکن کو مروانا تھا، چنانچہ جادو کا ایک مٹھ انکی طرف بھی چل پڑا تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی دو تین کام تھے اور انہی میں سے ایک کام جسونت رائے کی حویلی پر پھینکے مٹھ کا بھی تھا۔ ارجن شاستری اپنے کام کا آغاز کر چکا تھا اور یہ پہلا ہی مٹھ تھا جو اس نے روانہ کیا تھا اور اب اسے اپنی کامیابی کا انتظار تھا۔ آٹے کا بنا ہوا بھیانک شکل کا ایک پتلا ارجن کے سامنے پڑا تھا، اس کے قدموں میں ثابت ماش کے دانے بکھرے پڑے تھے، برابر ہی خون کے دو چراغ جل رہے تھے، یہ خون تیل میں شامل کیا گیا تھا اور کسی ایسے شخص کا تھا جو اپنے دشمن کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔ کالا پتلا ارجن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا اور ارجن اسکی آنکھوں میں مٹھ کو اڑتے دیکھ رہا تھا جو تیزی سے اڑتا ہوا آگے جا رہا تھا۔ پھر اچانک ہی مٹھ واپس پلٹا اور ارجن چونک پڑا، مٹھ کی واپسی اس کے لیے ایک بھیانک عمل کے طور پر تھی۔ وہ اپنی جگہ سے وحشت زدہ انداز میں کھڑا ہو گیا، اس کے ہاتھ پھیل گئے اور وہ ہونٹوں میں بڑبڑایا۔


"یہ کیسے ہوگیا، یہ کیسے ہو گیا کالی ماں، ایسا کیسے ہو گیا؟"


اچانک ہی پتلے کے منہ سے آواز نکلی۔

"تو اپنے دشمن کو بھول گیا، ارجن"


"کون دشمن؟"


"وہ جو مسلمان مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور تجھ سے کہہ گیا تھا کہ جسونت رائے کی حویلی پر حملہ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا"


"عمادالدین"


"جو بھی نام ہے اسکا، اس نے تیرا مٹھ واپس کر دیا یے، بچ، سنبھل، وہ آ گیا"

پتلے نے کہا، اور دوسرے ہی لمحے ارجن وہاں سے بھاگ پڑا۔ وہ اپنی رہائش گاہ میں تھا، اچانک ہی ایک دھماکہ ہوا اور چھت میں ایک سوراخ ہوا اور مٹی کی ہانڈی، جس میں سندور، چاول، دال، آٹا اور نجانے کیا کیا چیزیں بھری ہوئی تھیں، چھت پھاڑتی ہوئی نیچے آ گری۔ اس وقت ارجن کی بیٹی، کشکاوتی، اپنے ہاتھوں میں مہندی لگا رہی تھی کہ ہانڈی اس کے سر پر گری اور کشکاوتی کی بھیانک چیخ فضا میں گونج اٹھی۔ کشکاوتی کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی اور ارجن چیخ رہا تھا۔


"یہ کیا ہوا۔ ارے یہ کیا ہوا۔ اری اٹھ، اس آگ کو بجھا"۔


یہ آخری الفاظ اس نے اپنی دھرم پتنی کو کہے تھے، لیکن وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھی رہی، اس کے دل کی حرکت بند ہو چکی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ارجن کی بیٹی نے بھی دم توڑ دیا۔ ارجن پھٹی پھٹی نظروں سے بیوی اور بیٹی کو دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر انتہائی ہیجان اور غم کے اثرات تھے۔ اس کے منہ سے ایک غراہٹ نکلی۔


xxxxxxx جاری ہے xxxxxxxx



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کالکا دیوی | از ایم اے راحت

یہ درویشوں اور صاحب کرامت لوگوں کی صحبت تھی، چنانچہ عمادالدین کو اس صحبت سے بہت کچھ حاصل ہو گیا،،، امکان تھا کہ طلب حق میں حد سے گزر جاتے، ل...